آزادی کی کھڑکیاں
آو ہم واہگہ اور اٹاری کی ان سلاخوں سے زرا پرے نفرت کی کیاریوں سے زرا دور، ان سرحدی دیواروں میں محبّت کی چند بولتی کھڑکیاں بنالیں آو ہم اپنے حسیں ماضی کے جیسے محبتوں کے لحاف میں اُڑھی سردیوں کی بارشوں میں انگیٹھیوں کے گرد محفلیں سجالیں کیون نہ ہم محبت کی چند بولتی کھڑکیاں بنالیں آو ہم ہاڑ دہاڑے کی جھلستی گرمیوں میں وہ پیپل کی مانند جو جہرنہ تھا محبت کا وہ نخلستان پھر اپنے دریچوں پر سجا لیں کیوں نہ ہم محبت کی چند بولتی کھڑکیاں بنالیں آو ہم روہی چولستاں کی بلکتی ریت کو بیاس کے بہتے آنسوؤں سے جو اس کی یاد میں ہر روز بہتے ہیں خزاں رسیدہ ان ٹیلوں پر بہارِجاوداں بنادیں کیوں نہ ہم محبت کی چند بولتی کھڑکیاں بنالیں آو ہم بٹوارے کی ان لکیروں کو جو لاہور و امرتسر، بہاولپور و جلھندر کو راوی و ستلج کو تقسیم کرتی ہیں اُسے ہم خاک کر کے پھر اک پنجاب بنادیں کیوں نہ ہم محبت کی چند بولتی کھڑکیاں بنالیں راقم: محمد نبیل امجد