بیساکھی


فصلاں دی مک گئی راکھی، سونئیا آئی وساکھی
بیساکھی متحدہ برصغیر کے بالخصوص پنجاب کے کسانوں کا ثقافتی تہوار ہے. جسے وسط اپریل اور دیسی مہینوں میں بیساکھ کے آغاز میں منایا جاتا ہے. یہ تہوار بالعموم گندم کی کٹائی اور دھکان کو اس کی محنت کا ثمر ملنے کی اکاسی کرتا ہے. فصل کی پیداوار اچھی ہونا اور مناسب قیمت مل جانا کسان کے لیے بیٹا پیدا ہونے کے چاہ سے زیادہ خوشخبری تصور کیا جاتا ہے . یہ تہوار آپسی محبت، انس بھائی چارے، احساس ومروت کا مجموعہ ہوتا ہے. شادیانے بجائے جاتے ہیں، تحفے تحائف کا تبادلہ، غریب غرباء میں اناج کی تقسیم کی احسن روایت قائم ہیں. یہ تہوار چھوٹے بچے بچیوں کے لیے تو خاصا اہم ہوتا ہے کیونکہ اس روز گاؤں کے ہر گھر سے  انہیں حسبِ توفیق "ریڑی"ملتی ہے جسے محلے کی مخصوص ہٹی پر فروخت کیا جاتا اور حاصل شدہ سرمایہ سے اپنی ٹھاٹھ باٹھ میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے. زندہ روایات کا یہ تہوار رنگ نسل، زات پات، مزہب اور فرقوں کی تقسیم سے بالاتر ایک زندہ وجاوید پرسکون خوشگوار اور خوشحال معاشرے کے قیام کا اہم عنصر رہا ہے. شاید اسی وجہ سے پنجاب پرامن ترین خطہ رہا مگر تقسیم ہند کے بعد پنجاب کو دو لخت کر دیا گیا. بھارت میں سیکھوں کی اکثریت کی وجہ سے یہ تہوار رفتہ رفتہ مزہبی رنگ میں ڈھلتا گیا نتیجتاً یہ اپنی تاثیر کھوتا چلاگیا. مزہبی  رنگ سے یہ پاکستان کے مسلمانوں کی نئی نسل تک نہ پہنچ سکا. اسی طرح دوسرے ثقافتی تہوار کم ہوتے چلے گے اور لوگوں میں دوریاں بڑھتی چلی گئیں اور پرسکون معاشرے کی جڑیں کھوکھلی ہوتی چلی گئیں. آپسی رنجشیں پھولنے لگیں، شکر کا دامن ہاتھ سے نکل گیا، چور اور بددیانت لوگ حکمران بنے اور معاشرے کے تمام تبقات نے حسبِ ضرورت کسانوں کو لوٹا. پھر دن اے کہ کسان معاشرے کا ادنیٰ شہری تصور ہونے لگا. حکومتی جبر کھاد، بیج، بجلی کا مہنگا ہونا اور نہری پانی کے فقدان نے اسی دھکان کو مٹی کی محبت سے دور کر کے پھندوں تک پہنچا دیا. آے روز کوئی مٹی پر جان وار جاتا ہے مگر اہل شہر سو رہے ہیں
جس کھیت سے دھکاں کو میسر نہیں روزی 
اس کھیت کے ہر گوشہ گندم کو جلا دو
 انقریب زمینیں بھانج ہو جائیں گی پھر تمہاری سسکیوں آہوں کے نوحے بھی دھکان پیدا نہیں کر پائیں گے 
میرے لوگو اگر سننا گوارہ ہو
ہماری داستان جس پہ چل کر تم یہاں تک آے تھے
زمینیں بھانج تھیں جب خشک سالی کا موسم تھا
ہمیں تھے وہ جو شبستانوں سے پھول چن کر ویرانوں میں لاے تھے
ہمارے خون کی بارش گری تھی اشکوں کے دریا بہاے تھے
میرے لوگو اگر سننا گوارہ ہو
تمہی تو غم ہمارا ہو
حکومتی اداروں کو چاہیے کہ وہ کسانوں کی بہتری کے لئے ہرممکن کوشش کریں کیونکہ 
خوشحال کسان 
خوشحال پاکستان 

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

آزادی کی کھڑکیاں

میں نے مان لیا ہے