اک نظریہ "لا الہ الا اللہ"
میں ایک پاکباز باقردار پارسا کوک سے جنم لینے والا ایک
مخلص سپاہی ہوں. جسکی رگوں میں ایک نظریہ گردش کرتا ہے جو مجھے انجانے یا زاتی محنت سے نہیں ملا بلکہ یہ تو وہ وراثت تھی جو حضرت آدم علیہ السلام سے چلی آرہی ہے. جو کہیں ظاہر تو کہیں پوشیدہ ہے. کبھی اس نظریہ پر دنیا قابض ہوجاتی ہے تو کبھی اس کی رنگینیاں. مگر میں ڈگمگائیا نہیں ڈرا نہیں رکا نہیں. اس میں میری کوئی خاطر خواہ محنت نہ تھی بلکہ میرے مالک کی خاص وخاص کرم نوازی تھی جس نے مجھے راہ راست پر قائم رکھا. میں ایک گھڑی کی سوئی کی مانند چلتا رہا. بجلی کی سی کوئی طاقت مجھے دھکے سے چلا رہی تھی. یہ وہ نظریہ تھا جو میرے خون میں آتش فشاں کی طرح پھوٹ رہا تھا. جو مجھے دکھیل رہا تھا میں چلتا گیا بڑھتا گیا.میں حق کی سربلندی کی خاطر تندوتیز آندھیوں، دشوارگھاٹیوں، جھلساتی گرمی یا خون جمادینے والی ٹھنڈ کے مظالم بے خوف وخطر اپنی پشتوں پے سجائے چلتا گیا. اس کے نشاں اپنی چھاتی پر کندہ کئے اپنے فریضہ اولین کو ادا کرنے کی کوشش میں مگن رہا. آج میرے حصے کا سفر تمام ہوگیا ہے. آج میں رک گیا ہوں. آج میں زمین بوس اپنی سواری لئے واپس روانہ ہوں. میرا کام مکمل ہوا بہتوں کا کام ابھی ادھورا ہے اور بہتوں کو بیظار ہونا ہے. ابھی جو قرض ہے تم پرواجب، ادا ہونا باقی ہے. تم اپنے شبستانوں میں موجود شیشمحلوں کی کھڑکی سے زرا دور ویرانوں کو دیکھو وہ تمہارے منتظر ہیں کہ کب تم انہیں آباد کروگے، کہ کب تم اپنے آنگن کے پھول قربان کروگے. اگر تم اس کی استطاعت نہ رکھو تو کم سے کم اپنا ایمانی فریضہ نہ بھول جانا کہ کہیں پھر تم غافلوں میں سے نہ ہو جاو
"فقلہانی فقلہانی "
"قیدی کو چھڑاؤ، قیدی کو چھڑاؤ"

Jazak ALLAH❤❤
ReplyDelete❤بہت خوب
ReplyDelete