میٹھا ، فرمائش اور بچپن
میٹھا کھانا عمومی طور پر ایک لت سمجھا جاتا ہے اور میرے نزدیک میٹھے کے مزے تو شوگر کا مریض ہی جانتا ہے. بابو لوگ یعنی شاہی طبقہ تو میٹھا باقاعدگئ سے کھانے کے اختتام پر چھکتے ہیں مگر ہمارے پنجاب کا دھکان ایسا نہیں. اسے میٹھا خاص موقعوں پر میسر ہوتا ہے جیسے کوئی تہوار، شادی بیاہ، گرمیوں کی بارشیں اور ان بارشوں کی آمد کے لیے دعاؤں وغیرہ کے موقع پر. ہمارے ہاں میٹھے میں کوئی خاص چیز کا اہتمام ضروری نہیں بلکہ دو شرائط کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے لذیذ اور کثیر. پھر کھانے میں چاہے میعوں سے بھری کھیر ہو یا میٹھی روٹی، حلوہ ہو سوجی کا یا ٹکیاں، چاول گڑ والے ہوں یا زردہ یا دلیہ بس شرائط پر پورا اترتے ہوں. میرے نزدیک میٹھا اکیلے کھانا بےوقوفی ہے. میٹھا ہمیشہ اپنے چاہنے والے دوست احباب کے ہمراہ ہی کھانا چاہیے
آج بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا ، بارش نے جہاں گرمی کا زور توڑا وہیں میٹھے کے عشق نے بھی زور پکڑا اور پھر اماں جان سے ضد شروع ہوئی جو ہماری جیت پر ختم ہوئی. جس اثناء میں گائے بھینسوں کے چارے کا اہتمام مکمل ہوا. اسی اثناء میں والدہ محترمہ نے خلوص کی میٹھاس سے بھر پور گڑ کی چاشنی سے بھر پور میٹھی میٹھی سی روٹیاں تیار کیں جن میں سفید اور سیاہ تل محوِ رقص تھے. میں اور والد صاحب چولہے کے قریب ہی بیٹھ گئے. والدہ نے روٹیاں دودھ کے ساتھ پیش کیں. ہم بھی پرائے دسترخوان کی طرح ٹوٹ پڑے اور خوب ہاتھ صاف کئے یوں بچپن کی چند گرد آلودہ تصاویر پھر سے روشن ہوگئیں
.... آہ کہ زندگی کے چند حسیں ایام گزار آے ہم
آج بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا ، بارش نے جہاں گرمی کا زور توڑا وہیں میٹھے کے عشق نے بھی زور پکڑا اور پھر اماں جان سے ضد شروع ہوئی جو ہماری جیت پر ختم ہوئی. جس اثناء میں گائے بھینسوں کے چارے کا اہتمام مکمل ہوا. اسی اثناء میں والدہ محترمہ نے خلوص کی میٹھاس سے بھر پور گڑ کی چاشنی سے بھر پور میٹھی میٹھی سی روٹیاں تیار کیں جن میں سفید اور سیاہ تل محوِ رقص تھے. میں اور والد صاحب چولہے کے قریب ہی بیٹھ گئے. والدہ نے روٹیاں دودھ کے ساتھ پیش کیں. ہم بھی پرائے دسترخوان کی طرح ٹوٹ پڑے اور خوب ہاتھ صاف کئے یوں بچپن کی چند گرد آلودہ تصاویر پھر سے روشن ہوگئیں
.... آہ کہ زندگی کے چند حسیں ایام گزار آے ہم

Comments
Post a Comment