استاد، اک چراغِ نور
جو کچھ کیا رقم ہے استاد کی عطاء ہے
استاد، معلم یا فن سکھانے والے عظیم انسان ہوتا ہے. ہمارے معاشرے کا ایک اہم ترین رکن جو معاشرے کی اخلاقی، فنی اور تعلیمی تربیت کا زمہ دار ہوتا ہے. اس عظیم زمہ داری کے عوض اس کا یہ حق ہے کہ اسے معاشرے کا سب سے قابلِ احترام درجہ دیا جائے. زبانِ فارس میں استاد کے ساتھ "جی" کا لفظ عزت و احترام کی وجہ سے ضرور لگایا جاتا ہے. اگر آپ کسی معاشرے کا عکس اک شخص میں دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ وہاں کا "استاد" ہے. اور استاد ہی آپ کے روشن مستقبل کی کنجی ہوتا ہے. استاد اپنے شاگردوں کو صراط مستقیم پر لاتا ہے. بھٹکے ہوئے آہوں کو سوئے حرم لانے والا صرف استاد ہی ہوتا ہے
جب میں اپنے دور کے عظیم لوگوں کو پڑھتا ہوں تو مجھے ایک اچھے استاد کی تمام خوبیاں ان میں دکھائی دیتی ہیں مگر میں محو حیرت ہوں کہ ہم تنزلی کے جس گہرے کنویں میں دھنس رہے ہیں وہاں ان افراد کا ہم پر اثر کیوں نہیں ہورہا. ہمارا تابناق ماضی ہماری علم و ادب اور معاشرتی روایات کی روشن داستاں اب کیوں دھندلی ہو رہی ہے. میں سوچتا ہوں کہ کیا اب مائوں کے دودھ میں وہ قوت نہیں رہی یا یہ مٹی بانجھ ہو چکی ہے مگر ایسا تو نہیں ہے. ہم تو آکسفورڈ کا علم سمیٹ رہے ہیں. اتنی محنت و مشقت سے ہمارے بزرگوں نے انگریزی نہیں سیکھی پھر آخر وہ کیا ہے جو ہمیں ترقی سے روکے ہوئے ہے جبکہ وہی کتب پڑھ کر اہل مغرب ترقی کی ثبک رفتاری پکڑے ہیں. یہی حیرت مجھے ان کے نظام کو دیکھنے کے قریب لے گی. فنلینڈ دنیا کا بہترین نظامِ تعلیم رکھتا ہے وہاں استاد بننے کے لیے ملکی سطح پر مقابلے کے امتحان میں شرکت کرنا پڑتی ہے اور صرف چند لوگ ہی اسے پاس کر پاتے ہیں. ٹریننگ کے مراحل سے گزر کر انہیں استاد کا درجہ ملتا ہے اور انہیں بچوں کو پڑھانے کی اجازت ملتی ہے. آپ یوں سمجھ لیں کہ جیسے ہمارے ہاں ڈاکٹر انجینئر بننے کے لیے جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں تقریباً ویسا ہی
یہ پڑھ کر مجھے اپنی اک استاد کی بات یاد آگئی جنہوں نے مجھے مائیکرو بیالوجی پڑھنے سے روکتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پڑھ کر تو تم پڑھا بھی نہیں سکو گے گویا پڑھانا سب سے نچلے درجے کا کام ہے. خیر میں اسے کام بلکل نہیں سمجھتا. آج جب میں اپنے معاشرے میں استاد کی عزت و احترام کی کوئی مثال دیکھتا ہوں تو وہ مجھے انپڑھ گوار لوگوں میں ملتی ہے جو یا تو بس ڈرائیور ہیں یا کوئی ہنرمند. ہاں اگر آپ کے محل وقوع میں بزرگ موجود ہیں تو ان میں بھی اس کا خوب مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے
عصر حاضر کے اکثر طالب علم اور استاد دونوں ہی پستی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں. ہمارے ہاں یہ رواج عام ہے کہ جو شخص بےروزگار ہے اور ڈگری رکھتا ہے تو وہ استاد بن جائے یاں یوں کہئیے کہ آج کا استاد معاشرے کا نالائق ترین فرد ہوتا ہے جو اس جنتی فریضے کو بطور زرائع آمدن استعمال کرتا ہے اور معاشرے کو ایسا نقصان پہنچاتا ہے جو ناقابل تلافی ہو. تو دوسری جانب اقبال کے شاہین اب گدوں سے بھی بد تر ہو چکے ہیں محنت سے جان جاتی ہے اور دونمبری، بداخلاقی اور بددیانتی انکا شیوہ ہے. بعد ازاں یہی طبقہ استاد گری سنبھال لیتا ہے. پھر بہاولپور میں قتل ہو یا ملتان میں اغواء یا فیصل آباد لاہور میں زنا کے واقعات پر تعجب نہیں ہوتا. میں دور کی بات کیوں کروں میرے کچھ استاد آج بھی بھی کچھ مخالف جنس طلباء سے ہمدردی رکھتے ہیں خوب نوازتے ہیں. دوسری جانب وہ.طلباء بھی ہم جماعت ہیں جو ان اساتذہ کہ ہم پلہ ہیں
جہاں احمقوں کے ڈھیرے ہیں، جہاں ظلمتِ شب تاریکی بچھائے بیٹھی ہے وہاں کچھ روشن چراغ اپنی بصیرت عام کئیے ہیں. وہ معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے کپکپاتے جسموں سے ہرممکن کوشش کرتے ہر حربہ بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کا سرد رویہ برداشت کر رہے ہیں
میرے تعلیمی سفر میں دونوں طرح کے استاد گزرے ہیں اور کچھ موجود ہیں آج اگر یہ ناچیز راقم کسی قابل ہے تو وہ صرف ان اساتذہ کی و بدولت جو استاد ہونے کا حقیقی فرض نبھا رہے ہیں راقم انہیں جھک کر سلام کرتا ہے اور دعاگو ہے کہ اللہ رب العزت ان پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول قائم رکھے آمین
راقم؛ محمد نبیل امجد

ماشا اللہ بہت خوب، بہترین عکاسی کی ہے آپ نے موجودہ دور میں درپیش مسائل اور اس عظیم کردار کی جس کو دنیا استاد اور معلم کے نام سے جانتی ہے، لکھا کریں تا کہ ہم جیسے لوگوں کو بھی پتا چلے
ReplyDeleteماشاء اللہ. کیا خوب لکھا ہے. لکھا کریں اور خوب لکھا کریں. اللھم زد فزد. ❤️
ReplyDeleteماشاء اللہ بہت جامع تحریر ہے
ReplyDelete😊😊😊
ReplyDelete👌👌👌👌👌
ReplyDeletewaaah.
ReplyDeleteMaza aya parh k ❤