Posts

میں نے مان لیا ہے

Image
حصولِ نورِ چشم جلائی شمع آشیانہ جل اٹھا  جلایا پروانے نے آنگن میرا، میں نے مان لیا ہے  منت سماجت, التجائیں, سب دعائیں رد ٹھہرِیں  سرد لہجے نہ اب بدلیں، میں نے مان لیا ہے  سبز پگڈنڈیاں، بند رستے، خراب موسم، ٹوٹی ناؤ  وہ دسترس سے باہر ہیں، میں نے مان لیا ہے  تحفہ ہجر بنا مانگے مجھے خوب ملا ہے وراثت نہیں بددعا ہے ،میں نے مان لیا ہے حال بدحال، خشک سانسیں، دل شکستہ، اجڑا بدوش خانہ  نا اب یہ سنورے گا، تم بھی مان جاو، میں نے مان لیا ہے راقم : نبیل امجد  

آزادی کی کھڑکیاں

آو ہم واہگہ اور اٹاری کی ان سلاخوں سے زرا پرے نفرت کی کیاریوں سے زرا دور، ان سرحدی دیواروں میں محبّت کی چند بولتی کھڑکیاں بنالیں آو ہم اپنے حسیں ماضی کے جیسے محبتوں کے لحاف میں اُڑھی سردیوں کی بارشوں میں انگیٹھیوں کے گرد محفلیں سجالیں کیون نہ ہم محبت کی چند بولتی کھڑکیاں بنالیں آو ہم ہاڑ دہاڑے کی جھلستی گرمیوں میں وہ پیپل کی مانند جو جہرنہ تھا محبت کا وہ نخلستان پھر اپنے دریچوں پر سجا لیں کیوں نہ ہم محبت کی چند بولتی کھڑکیاں بنالیں آو ہم روہی چولستاں کی بلکتی ریت کو بیاس کے بہتے آنسوؤں سے جو اس کی یاد میں ہر روز بہتے ہیں خزاں رسیدہ ان ٹیلوں پر بہارِجاوداں بنادیں کیوں نہ ہم محبت کی چند بولتی کھڑکیاں بنالیں آو ہم بٹوارے کی ان لکیروں کو جو لاہور و امرتسر، بہاولپور و جلھندر کو راوی و ستلج کو تقسیم کرتی ہیں اُسے ہم خاک کر کے پھر اک پنجاب بنادیں کیوں نہ ہم محبت کی چند بولتی کھڑکیاں بنالیں راقم:   محمد نبیل امجد

استاد، اک چراغِ نور

Image
جو کچھ کیا رقم ہے استاد کی عطاء ہے استاد، معلم یا فن سکھانے والے عظیم انسان ہوتا ہے. ہمارے معاشرے کا ایک اہم ترین رکن جو معاشرے کی اخلاقی، فنی اور تعلیمی تربیت کا زمہ دار ہوتا ہے. اس عظیم زمہ داری کے عوض اس کا یہ حق ہے کہ اسے معاشرے کا سب سے قابلِ احترام درجہ دیا جائے. زبانِ فارس میں استاد کے ساتھ "جی" کا لفظ عزت و احترام کی وجہ سے ضرور لگایا جاتا ہے. اگر آپ کسی معاشرے کا عکس اک شخص میں دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ وہاں کا "استاد" ہے. اور استاد ہی آپ کے روشن مستقبل کی کنجی ہوتا ہے. استاد اپنے شاگردوں کو صراط مستقیم پر لاتا ہے. بھٹکے ہوئے آہوں کو سوئے حرم لانے والا صرف استاد ہی ہوتا ہے  جب میں اپنے دور کے عظیم لوگوں کو پڑھتا ہوں تو مجھے ایک اچھے استاد کی تمام خوبیاں ان میں دکھائی دیتی ہیں مگر میں محو حیرت ہوں کہ ہم تنزلی کے جس گہرے کنویں میں دھنس رہے ہیں وہاں ان افراد کا ہم پر اثر کیوں نہیں ہورہا. ہمارا تابناق ماضی ہماری علم و ادب اور معاشرتی روایات کی روشن داستاں اب کیوں دھندلی ہو رہی ہے. میں سوچتا ہوں کہ کیا اب مائوں کے دودھ میں وہ قوت نہیں رہی یا یہ مٹی بانجھ ہو...

میٹھا ، فرمائش اور بچپن

Image
میٹھا کھانا عمومی طور پر ایک لت سمجھا جاتا ہے اور میرے نزدیک میٹھے کے مزے تو شوگر کا مریض ہی جانتا ہے. بابو لوگ یعنی شاہی طبقہ تو میٹھا باقاعدگئ سے کھانے کے اختتام پر چھکتے ہیں مگر ہمارے پنجاب کا دھکان ایسا نہیں. اسے میٹھا خاص موقعوں پر میسر ہوتا ہے جیسے کوئی تہوار، شادی بیاہ، گرمیوں کی بارشیں اور ان بارشوں کی آمد کے لیے دعاؤں وغیرہ کے موقع پر. ہمارے ہاں میٹھے میں کوئی خاص چیز کا اہتمام ضروری نہیں بلکہ دو شرائط کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے لذیذ اور کثیر. پھر کھانے میں چاہے میعوں سے بھری کھیر ہو یا میٹھی روٹی، حلوہ ہو سوجی کا یا ٹکیاں، چاول گڑ والے ہوں یا زردہ یا دلیہ  بس شرائط پر پورا اترتے ہوں. میرے نزدیک میٹھا اکیلے کھانا بےوقوفی ہے. میٹھا ہمیشہ اپنے چاہنے والے دوست احباب کے ہمراہ ہی کھانا چاہیے آج بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا ، بارش نے جہاں گرمی کا زور توڑا وہیں میٹھے کے عشق نے بھی زور پکڑا اور پھر اماں جان سے ضد شروع ہوئی جو ہماری جیت پر ختم ہوئی. جس اثناء میں گائے بھینسوں کے چارے کا اہتمام مکمل ہوا. اسی اثناء میں والدہ محترمہ نے خلوص کی میٹھاس سے بھر پور گڑ کی چاشنی سے بھر پور می...

اک نظریہ "لا الہ الا اللہ"

Image
میں ایک پاکباز باقردار پارسا کوک سے جنم لینے والا ایک مخلص سپاہی ہوں. جسکی رگوں میں ایک نظریہ گردش کرتا ہے جو مجھے انجانے یا زاتی محنت سے نہیں  ملا بلکہ یہ تو وہ وراثت تھی جو حضرت آدم علیہ السلام سے چلی آرہی ہے. جو کہیں ظاہر تو کہیں پوشیدہ ہے. کبھی اس نظریہ پر دنیا قابض ہوجاتی ہے تو کبھی اس کی رنگینیاں. مگر میں ڈگمگائیا نہیں ڈرا نہیں رکا نہیں. اس میں میری کوئی خاطر خواہ محنت نہ تھی بلکہ میرے مالک کی خاص وخاص کرم نوازی تھی جس نے مجھے راہ راست پر قائم رکھا. میں ایک گھڑی کی سوئی کی مانند چلتا رہا. بجلی کی سی کوئی طاقت مجھے دھکے سے چلا رہی تھی. یہ وہ نظریہ تھا جو میرے خون میں آتش فشاں کی طرح پھوٹ رہا تھا. جو مجھے دکھیل رہا تھا میں چلتا گیا بڑھتا گیا.میں حق کی سربلندی کی خاطر تندوتیز آندھیوں، دشوارگھاٹیوں، جھلساتی گرمی یا خون جمادینے والی ٹھنڈ کے مظالم بے خوف وخطر اپنی پشتوں پے سجائے چلتا گیا. اس کے نشاں اپنی چھاتی پر کندہ کئے اپنے فریضہ اولین کو ادا کرنے کی کوشش میں مگن رہا. آج میرے حصے کا سفر تمام ہوگیا ہے. آج میں رک گیا ہوں. آج میں زمین بوس اپنی سواری لئے واپس روانہ ہوں. میر...

بیساکھی

Image
فصلاں دی مک گئی راکھی، سونئیا آئی وساکھی بیساکھی متحدہ برصغیر کے بالخصوص پنجاب کے کسانوں کا ثقافتی تہوار ہے. جسے وسط اپریل اور دیسی مہینوں میں بیساکھ کے آغاز میں منایا جاتا ہے. یہ تہوار بالعموم گندم کی کٹائی اور دھکان کو اس کی محنت کا ثمر ملنے کی اکاسی کرتا ہے. فصل کی پیداوار اچھی ہونا اور مناسب قیمت مل جانا کسان کے لیے بیٹا پیدا ہونے کے چاہ سے زیادہ خوشخبری تصور کیا جاتا ہے . یہ تہوار آپسی محبت، انس بھائی چارے، احساس ومروت کا مجموعہ ہوتا ہے. شادیانے بجائے جاتے ہیں، تحفے تحائف کا تبادلہ، غریب غرباء میں اناج کی تقسیم کی احسن روایت قائم ہیں. یہ تہوار چھوٹے بچے بچیوں کے لیے تو خاصا اہم ہوتا ہے کیونکہ اس روز گاؤں کے ہر گھر سے  انہیں حسبِ توفیق "ریڑی"ملتی ہے جسے محلے کی مخصوص ہٹی پر فروخت کیا جاتا اور حاصل شدہ سرمایہ سے اپنی ٹھاٹھ باٹھ میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے. زندہ روایات کا یہ تہوار رنگ نسل، زات پات، مزہب اور فرقوں کی تقسیم سے بالاتر ایک زندہ وجاوید پرسکون خوشگوار اور خوشحال معاشرے کے قیام کا اہم عنصر رہا ہے. شاید اسی وجہ سے پنجاب پرامن ترین خطہ رہا مگر تقسیم ہند کے بعد پ...